سوال نمبر:JIA-690
الإستفتاء: کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرمباشرتِ فاحشہ سےعضوِتناسل سےچندقطرے مذی کےآجائیں تواس سےکیاغسل فرض ہوجاتاہے؟
سائل:نعیم احمدشیخ قادری،شہدادپور،سانگھڑ
بإسمہ سبحانہ تعالٰی و تقدس الجواب: صُورتِ مسئولہ میں غسل فرض نہیں ہوتا،البتہ وضوٹوٹ جاتاہے۔اب چاہےیہ قطرے مباشرتِ فاحشہ کی وجہ سےخارج ہوں یاکسی اوروجہ سے۔
چنانچہ امام ابوعبداللہ محمدبن اسماعیل بخاری متوفی۲۵۶ھ اپنی سندکےساتھ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں:
كنتُ رجلًا مذّاءً فأمرتُ المقدادَ أن يسأل النّبيّ صلى الله عليه وسلم فسألهُ، فقال: «فِيهِ الوُضُوءُ»۔1
یعنی،میں ایساشخص تھاجس کومذی بہت نکلتی تھی،تومیں نےمقدادسےکہاکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےسوال کریں،اُنہوں نےپوچھاتوآپ نےفرمایا:اس میں وضوکرناہے۔
اس حدیث شریف کےتحت علامہ بدرالدین عینی حنفی متوفی۸۵۵ھ لکھتےہیں:
فِيه دلِيلٌ على أنّ المَذي لَا يُوجب الغُسل بل يُوجب الوضوءَ فإنّه نجسٌ ولهذَا يجب مِنه غَسل الذّكر۔2
یعنی،اس حدیث میں آپ نےبتایاکہ مذی کےخروج سےغسل واجب نہیں ہوتا،بلکہ وضوواجب ہوتاہےکیونکہ یہ نجس ہےاسی لئے اس کےخروج کےبعدذَکر(شرمگاہ)کودھوناواجب ہے۔
اورامام ابوالحسین مسلم بن حجاج قشیری متوفی۲۶۱ھ اپنی سندکےساتھ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں:
كنتُ رجلًا مذّاء وكنت أستَحيي أن أسألَ النّبيّ صلى الله عليه وسلم لمكانِ ابنته فأمرتُ المقداد بنَ الأسودِ فسأله فقالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ»۔3
یعنی،مجھےبہت مذی نکلنےکی شکایت تھی اورمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےپوچھنےمیں بھی شرماتاتھاآپ کی صاحبزدای کےمیرے نکاح میں ہونےکی وجہ سے،تومیں نےمقدادسےکہا،اُنہوں نےحضورسےپوچھاتوفرمایا:شرمگاہ دھولیں اوروضوکرلیں۔
اس حدیث شریف کےتحت مفتی احمدیارخان نعیمی حنفی متوفی۱۳۹۱ھ لکھتےہیں:
شہوت کے وقت جو پتلا لیسدار پانی نکلتا ہے وہ مذی ہے۔پیشاب کے بعد جو سفید قطرہ آجاتا ہے وہ ودی کہلاتاہے۔ان دونوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے نہ کہ غسل۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بزرگوں سے حیاو غیرت کرنا کمال ایمان کی دولت ہے،ہاں حیا کی وجہ سے مسئلہ ہی نہ پوچھنا،بے علم رہنا گُناہ ہے۔علی مرتضیٰ نے مسئلہ بھی معلوم کرلیا اور حیاء بھی قائم رکھی۔4
اورامام محی الدین ابوزکریایحی بن شرف نووی شافعی متوفی۶۷۶ھ اوران کےحوالےسےعلامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی۹۷۰ھ لکھتےہیں:
أجمعَ العلماءُ أنّه لا يَجب الغُسل بخروج المذْي والوَدي۔ 56
یعنی،اس پرعلماءکااجماع ہےکہ مذی اورودی کےنکلنےسےغسل واجب نہیں ہوتا۔
اورعلامہ سیّدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی۱۲۵۲ھ لکھتےہیں:
لا يفرضُ الغسلُ عند خروجِ مذيٍ۔7
یعنی،مذی کےنکلنےسےغسل فرض نہیں ہوتاہے۔
اورصدرالشریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی۱۳۶۷ھ لکھتےہیں:
پاخانہ، پیشاب، وَدِی، مَذِی، مَنی، کیڑا ، پتھری مرد یا عورت کے آگے یا پیچھے سے نکلیں وُضو جاتا رہے گا۔8
واللہ تعالی أعلم بالصواب
تاریخ اجراء: یوم الجمعۃ،۲۶/شوال المکرم،۱۴۲۶ھ۔۲۵/نومبر،۲۰۰۵م
المفتى محمد عطا ءالله نعيميرئیس دارالإفتاء
جمعية إشاعة أھل السنة(باكستان)