True Fatawa

چاربیٹوں اوردوبیٹیوں میں تقسیمِ وراثت

سوال نمبر: JIA-488

الإستفتاء:کیا فرماتے ہیں عُلمائےدین ومفتیانِ شرعِ متین اِس مسئلہ میں کہ میرے والدکاانتقال ہوچکاہے،اُن کےترکہ میں ایک مکان ہےجس کی قیمت پچاس لاکھ ہےاورہماری والد ہ اورایک بہن کاانتقال والدکی حیات ہی میں ہوچکاتھااوراب ہم چار بھائی ،دو بہنیں اورہماری مرحومہ بہن کے دوبچے ہیں،برائے کرم اس معاملےمیں رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ رقم میں کون سےکون کتنےحصےکا وارث ہے؟

سائل:محمد رضوان شیخ،بلدیہ ٹاؤن،کراچی


بإسمہ سبحانہ تعالٰی و تقدس الجواب: صُورتِ مسئولہ میں برتقدیرِ صدقِ سائل وانحصارِ ورثاءدرمذکورین بعدِاُمورِثلاثہ متقدمہ علی الإرث(یعنی کفن دفن کےتمام اخراجات اوراگرمرحوم کےذمےقرض ہوتواُس کی ادائیگی اورغیرِوارث کےلئےوصیّت کی ہو،تو تہائی مال سےاُسےپورا کرنےکےبعد)مرحوم کامکمل ترکہ اُن کےچاربیٹوں اوردوبیٹیوں کےدرمیان دس حصوں پرتقسیم ہوگااوروہ اس طرح کہ ہرایک بیٹےکودو،دو(۲،۲)حصےاورہرایک بیٹی کوایک،ایک(۱،۱)حصہ ملےگاکیونکہ بیٹےکاحصہ بیٹی کی بنسبت دُگناہوتا ہے۔

چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے:

  يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ للذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ 1
  اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصّہ دو بیٹیوں برابر۔(کنز الإیمان)

اورمرحوم کی جائیدادمیں اُن کی فوت شُدہ بیٹی کی اولادکاکوئی حق نہیں ہےکیونکہ وہ ذوی الارحام میں سےہیں۔

چنانچہ علامہ سراج الدین محمدبن عبدالرشیدسجاوندی حنفی متوفی۶۰۰ھ لکھتےہیں:

  الصّنف الأوّلُ: ینتمِی إلَی المیّتِ وھُم أولَاد البناتِ وأولَاد بناتِ الإبنِ۔2

یعنی،ذوی الارحام کی پہلی قسم جومیت کی طرف منسوب ہوتی ہےاوریہ میت کی بیٹیوں کی اولاداورپوتیوں کی اولادہیں۔ اورمرحوم کی اولادعصبہ ہےاورعصبہ کی موجودگی میں ذوی الارحام محروم رہتےہیں۔

چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی۱۱۶۱ھ اورعلمائےہندکی ایک جماعت نےلکھاہے:

  وإنّما يَرث ذَوو الأرحامِ إذَا لَم يَكن أحدٌ مِن أصحابِ الفرائضِ ممّن يردّ عليهِ ولَم يكنْ عصبةٌ۔3

یعنی،ذوی الارحام اسی وقت وارث ہوں گے جب کہ اصحاب فرائض میں سے وہ لوگ موجود نہ ہوں جن پر مال دوبارہ رد کیا جا سکتا ہو اور عصبہ بھی نہ ہو۔4

ہاں اگرمرحوم کےعاقل بالغ ورثاءباہمی رضامندی سےکل ترکہ سےیاکوئی وارث اپنےحصہ سےمرحومہ بہن کےبچوں کوجو کچھ دیناچاہےتودےسکتاہےاوراس پروہ اجروثواب کاحقدارہوگا۔

اورمرحوم سےپہلےانتقال کرجانےوالی والدہ اوربیٹی کوکچھ نہیں ملےگاکیونکہ وراثت کاحقداروہی ہوتاہےجواپنےمُورث کی موت کےوقت زندہ ہو۔

چنانچہ علامہ سیّدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی۱۲۵۲ھ لکھتےہیں:

  وجودُ وارِثه عِند مَوتِه حيًّا۔5

یعنی،وراثت کاحقدارہونےکیلئےمُورِث کی موت کےوقت اُس کےوارث کازندہ موجودہوناشرط ہے۔

وصورۃ المسئلۃ ھکذا :۱۰
المیت ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
۲۲۲۲۱۱
  واللہ تعالی أعلم بالصواب

تاریخ اجراء:یوم الثلاثاء،۲۵/رجب المرجب،۱۴۲۴ھ۔۲۳/سبتمبر،۲۰۰۳م

المفتى محمد عطا الله نعيمي

رئیس دارالإفتاء

جمعية إشاعة أھل السنة(باكستان)

 


  • 1 النسآء:۴/۱۱
  • 2 السراجیۃ،باب ذوی الأرحام،ص۹۰،مطبوعۃ:ضیاء القرآن،لاھور
  • 3 الفتاوی الھندیۃ،کتاب الفرائض،الباب العاشر فی ذوی الأرحام،۶/۴۵۹،مطبوعۃ:دار المعرفۃ،بیروت،الطبعۃ الثالثۃ۱۳۹۳ھ۔۱۹۷۳م
  • 4 بہارشریعت،ذوی الارحام کابیان،۳/۲۰/۱۱۶۱،مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ،کراچی،طباعت:۱۴۳۴ھ۔۲۰۱۳م
  • 5 رد المحتار،کتاب الفرائض،تحت قولہ:علم بأصول إلخ،۱۰/۵۲۵،مطبوعۃ:دار المعرفۃ،بیروت،الطبعۃ الأولیٰ۱۴۲۰ھ۔۲۰۰۰م