سوال نمبر: JIA-011
الإستفتاء: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر بیوی قرآنی تعلیم سے آراستہ ہو اور شوہر قرآنی تعلیم سے ناواقف ہو ۔کیا بیوی اپنے شوہر کو قرآن شریف پڑھا سکتی ہے ۔ شوہر اپنی بیوی سے پڑھنا چاہتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر میں اس سے تعلیم حاصل کروں گا تو بیوی استاد کا درجہ حاصل کرلے گی جبکہ میاں اور بیوی میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔آپ مہربانی فرماکر مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
سائل:محمدلطیف خواجہ،از بہارکالونی ،کراچی
بإسمہ سبحانہ تعالٰی و تقدس الجواب: صُورتِ مسئولہ میں جبکہ بیوی قرآنی تعلیم سےآراستہ ہےاورصحیح پڑھاسکتی ہےتوشوہرکواُس سے قرآن پڑھنےمیں کوئی حرج نہیں،لہٰذابیوی اپنےشوہرکوقرآنی تعلیم دےسکتی ہےاورحدیث شریف میں تعلیمِ قرآن کی فضیلت بھی واردہوئی ہے۔چنانچہ امام محمدبن اسماعیل بخاری متوفی۲۵۶ھ اپنی سندکےساتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سےروایت کرتےہیں:
قَالَ:«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»1
یعنی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا:تم میں بہترین شخص وہ ہےکہ جوقرآن سیکھےاورسکھائے۔
اوردُوسری حدیث میں فرمایا:
مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ وَأخَذَ بِمَا فِيْهِ كَانَ لَهُ شَفِيْعًا وَدَلِيْلَا إلَى الْجَنَّةِ۔2
یعنی،جس شخص نےقرآن سیکھااورسکھایااورجوکچھ قرآن میں ہےاُس پرعمل کیاتوقرآن شریف اُس کی شفاعت کرےگااورجنت میں لےجائےگا۔
اورقرآنِ کریم روزِقیامت اپنےپڑھنےوالوں کی شفاعت کرےگا۔چنانچہ امام ابوالحسین مسلم بن حجاج قشیری نیساپوری متوفی۲۶۱ھ اپنی سندکےساتھ حضرت ابواُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کرتےہیں:
سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ۔3
یعنی،میں نےنبی کریمﷺکوفرماتےہوئےسناکہ قرآن پڑھاکروکیونکہ یہ قیامت کےدن اپنےپڑھنےوالوں کی شفاعت کرےگا۔
اورقرآن پڑھناافضل عبادت ہے۔چنانچہ امام ابوبکراحمدبن حسین بیہقی متوفی۴۵۸ھ اپنی سندکےساتھ حضرت نعمان بن بشیررضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کرتےہیں:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ عِبَادَةِ أُمَّتِي قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ۔4
یعنی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا:میری اُمت کی بہترین عبادت قرآن پڑھناہے۔
لہٰذااِن احادیث کےذریعےقرآنِ کریم پڑھنےاورپڑھانےکی فضیلت معلوم ہوئی اوریہ بھی معلوم ہواکہ قرآن سیکھنااور سکھانابہترین عمل ہےاسےپڑھانااورسکھاناکثیراجروثواب کاباعث ہے،قرآنِ کریم پڑھانےاورسکھانےوالاشفاعت اورجنت کا مستحق ہےالغرض قرآنِ پاک پڑھناثوابِ جاریہ کاعظیم ذریعہ ہےاوریقیناًہرمسلمان ہی اجروثواب اورشفاعت وجنت کاطلب گار ہے،اس لئےمرداپنی زوجہ سےقرآن سیکھنےمیں بالکل بھی شرم وعارمحسوس نہ کرےاورنہ ہی بیوی بخل سےکام لےکہ علم کی طلب ہرمسلمان پرفرض ہے۔چنانچہ امام ولی الدین ابوعبداللہ محمدبن عبداللہ تبریزی متوفی۷۴۱ھ نقل کرتےہیں:
عَنْ أَنَسِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ۔5
یعنی،حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےمروی ہےآپ نےکہاکہ رسول اللہﷺنےارشادفرمایاکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔اوریہاں جب شوہرخودبیوی سےقرآن پڑھنےپرراضی ہےتوپھربیوی کوچاہیےکہ وہ اِس عمل خیرمیں اُس کاضرورساتھ دےکیونکہ قرآنِ کریم میں ہے:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى۔ 6
ترجمہ،اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔
واللہ تعالی أعلم بالصواب
تاریخ اجراء: ۱۹/شعبان المعظم ۱۴۲۱ھ، ۱۶ نومبر ۲۰۰۰م
المفتى محمد عطا الله نعيمي
رئیس دارالإفتاء
جمعية إشاعة أھل السنة(باكستان)